مبادیء عالیہ
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - فرشتے، ملائکہ اور عقل عشرہ۔ "اگلے لوگوں نے ان کے فضل و کمال پر گواہی دی ہے، اس لیے کہ یہ مثل مبادیِ عالیہ کے تھے۔" ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٢ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق دو اسماء 'مبادی' اور 'عالیہ' کے مابین کسرہ صفت لگانے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٥ء کو "جامع الاخلاق" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - فرشتے، ملائکہ اور عقل عشرہ۔ "اگلے لوگوں نے ان کے فضل و کمال پر گواہی دی ہے، اس لیے کہ یہ مثل مبادیِ عالیہ کے تھے۔" ( ١٩٢٥ء، حکمۃ الاشراق، ٢ )
جنس: مذکر